
Lawyers Protection Action Committee
(Press Release)
لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی کا
Punjab Control of Habitual Offenders and Anti Social Behaviour Bill 2026
کو مسترد کرنے کا اعلان
لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی نے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے "پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026" کو آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ بل، جو 1918 کے "ریسٹرکشن آف ہیبچوئل آفینڈرز (پنجاب) ایکٹ" اور 1959 کے "پنجاب کنٹرول آف غنڈاز آرڈیننس" کی جگہ لینے کے لیے پیش کیا گیا ہے، دراصل انہی نوآبادیاتی دور کے جابرانہ قوانین کی روح کو زندہ کرنے کی کوشش ہے جن کی بنیاد 1871 کے "کریمنل ٹرائبز ایکٹ" پر رکھی گئی تھی۔
مجوزہ قانون کے تحت انتظامی کمیٹیوں — جن میں پولیس اور انٹیلیجنس افسران شامل ہوں گے — کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی شہری کو محض درج شدہ مقدمے یا بار بار گرفتاری کی بنیاد پر "ہیبچوئل آفینڈر" یا "اینٹی سوشل" قرار دے سکیں، بغیر اس کے کہ عدالت میں جرم ثابت ہوا ہو۔ اس کے نتیجے میں بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا سکتے ہیں، جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے جا سکتے ہیں، شناختی کارڈ بلاک کیا جا سکتا ہے، اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹائے جا سکتے ہیں — یہ تمام اقدامات محض ایک کمیٹی کی رپورٹ یا پولیس چالان کی بنیاد پر ممکن ہوں گے۔
مزید یہ کہ "اینٹی سوشل رویے" کی تعریف اس قدر وسیع اور مبہم رکھی گئی ہے کہ اس میں "غلط معلومات یا افواہ پھیلانا" جیسے الفاظ بھی شامل ہیں، جس سے عام شہریوں، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ بل آئین پاکستان 1973 کی درج ذیل شقوں سے متصادم ہے:
آرٹیکل 9 — کسی شہری کو قانون کے مطابق کارروائی کے بغیر زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا
آرٹیکل 10 — گرفتاری اور حراست کے دوران قانونی تحفظات، بشمول وکیل تک رسائی اور گرفتاری کی وجوہات جاننے کا حق
آرٹیکل 10 اے — منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پراسیس کا بنیادی حق، جو 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کی عدالتوں نے "غنڈاز" طرز کے قوانین کا جائزہ لیا ہے، جن میں 1955 کا مقدمہ یوسف پٹیل بمقابلہ کراؤن (PLD 1955 FC 387) شامل ہے، جو سندھ کنٹرول آف غنڈاز ایکٹ 1952 کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی مثال ثابت کرتی ہے کہ اس نوعیت کے قوانین ہمیشہ عدالتی جانچ کے دائرے میں رہے ہیں۔
لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی، پنجاب اسمبلی سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
اس بل کو موجودہ شکل میں فوری طور پر واپس لیا جائے
کسی بھی نئی قانون سازی سے پہلے وکلاء برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے مکمل مشاورت کی جائے
کسی بھی سزا یا پابندی کا اطلاق صرف عدالتی فیصلے کے بعد ہی ممکن بنایا جائے، نہ کہ انتظامی کمیٹی کی رپورٹ پر
"اینٹی سوشل رویے" کی تعریف کو واضح اور محدود کیا جائے تاکہ آزادیٔ اظہار پر قدغن نہ لگے
ایڈووکیٹ خرم شہباز ملہی، سربراہ لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی نے کہا:
"یہ بل انصاف کے بنیادی اصول کو الٹ دیتا ہے — پہلے سزا، پھر مقدمہ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مقدمات برسوں تک عدالتوں میں زیرِ التواء رہتے ہیں، کسی شہری کو محض چالان کی بنیاد پر مجرم کی طرح سزا دینا آئین کی روح کے خلاف ہے۔ ہم پنجاب اسمبلی سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس بل پر نظرثانی کی جائے۔"
کمیٹی کا تعارف
لائرز پروٹیکشن ایکشن کمیٹی وکلاء کا ایک فورم ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق، ڈیو پراسیس اور آئینی تحفظات کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے، اور غیر آئینی یا حقوق سلب کرنے والی قانون سازی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔
President